Xxx kahanian speed dating south bend

Posted by / 20-Mar-2020 10:26

Read moreदोस्तो, आज मैं आप सभी को अपनी जिन्दगी की एक ऐसी घटना के बारे में बताना चाहता हूँ जिसके बाद से मुझे प्यार और सेक्स क्या है यह असली में समझ में आया। सबसे पहले मैं आप सभी को बता दूँ कि मेरा नाम आर्यन है और मैं मुम्बई में नौकरी करता हूँ, मैं 6 …

Read moreहेलो फ्रेंड्स, मेरी पिछली सेक्स कहानियां पढ़ने के लिए और मुझे रिप्लाई करने के लिए धन्यवाद!

Antarvasna,kamukta: रविवार का दिन था और उस दिन सब लोग घर पर ही थे मेरे बड़े भैया दिलीप घर पर थे दिलीप भैया ने मुझे कहा कि राहुल क्या आज तुम घर पर ही हो तो मैंने भैया से कहा कि नहीं भैया मैं आकाश को मिलने के लिए जाऊंगा। आकाश हमारी कॉलोनी में ही रहता…

Antarvasna, hindi sex story: मैं अपनी कॉलेज की पढ़ाई के लिए दिल्ली आ चुका था उस वक्त मुझे दो महीने ही हुए थे मैं जिस घर में रहता था वहीं पास में अक्षरा भी रहती थी अक्षरा बिल्कुल हमारे पड़ोस में रहती थी इसलिए अक्षरा को अक्सर मैं आते-जाते देखा करता था। जब मैं उसे…

Antarvasna, desi kahani: मैं और काव्या हर रोज पार्क में मॉर्निंग वॉक के लिए जाया करते हैं काव्या से मेरी शादी को हुए 10 वर्ष हो चुके हैं मैं अपनी शादीशुदा जिंदगी से काफी खुश हूं। एक दिन हम दोनों सुबह पार्क में टहलने के लिए गए हुए थे तो उस दिन हमारे पड़ोस में…

Antarvasna, desi kahani: यह बात कुछ वर्ष पुरानी है मै उस समय कॉलेज मे था मै ज्यादतर समय दोस्तो को साथ बिताया करता हमारी कॉलोनी मे एक लड़की आती है। मुझे वह लड़की बड़ी पसंद आयी उसकी नशीली आंखे मेरे ऊपर जादू कर गयी मुझे ऐसा लगा मानो मुझे उससे प्यार हो गया। वह हमारे…

کی طرح صغراں بھی نو عمری میں ہی بیوہ ہو گئی ، اور پانچ بچیوں کا بوجھ اُس کے کمزور کندھوں پر آن پڑھا۔پانچھوں بچیاں ناصرف خوبصورت تھیں بلکہ با اخلاق بھی تھیں ، جب کوئی آواز نکلتی ہے کہ ایک بیوہ کی پانچ بچیاں ہیں اور وہ بھی خوبصورت تو انسان نُما گِدھ وحشیوں کی طرح اُن کے اِرد گرد دِن رات دندناناشروع کر دیتے ہیں ، کوئی پیسوں کا لالچ دیتا ہے تو کوئی نوکری کا جھانسہ دیتا ہے تو کوئی خدائی مددگار بن جاتا ہے تو کوئی بھولا بِسرا رشتہ دار، لیکن زیادہ تر اپنے شیطانی حّوس کو پورا کرنے کے چکر میں رہتے ہیں ۔..........................یہ کہانی ایک ایسی بیوفا عورت کی ہے جِسے جان کر انسان کا بیوی جیسے پاک رشتے پر بھی اعتماد اُٹھ جاتا ہے۔کریم حسین میرا بہت قریب دوست ہے ، وہ پہلے بہت غریب ہوا کرتا تھا ، پھر اُس کے ایک اور دوست جمیل جو ایک کاروباری آدمی تھا ، نے کریم کی بہت مدد کی اور دیکھتے ہی دیکھتے کریم حسین مال دار ہو گیا ۔ کریم خود تو کسی حد تک ایک مذہبی آدمی تھا اور ایمانتداری سے کمانے پر یقین رکھتا تھا لیکن اُس کا دوست جمیل کا مذہب سے دور دور تک کا کوئی واسطہ ......................................................................، اِن میں ایک علاقہ واہ کینٹ بھی ہے۔اگرچہ جرائم یہاں بھی ہیں لیکن پاکستان کے دوسرے شہروں کی بنسبت بہت کم ہوتے ہیں۔ اگر کوئی جُرم وقوع پذیر ہو جائے تو پورے شہر میں سوگ کی سی کیفیت ہوتی ہے۔ایسا ہی ایک دردناک واقعے نے گزشتہ دِنوں پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا اور مکین اپنے بچوں کے بارے میں پہلے زیادہ محتاط رہنے لگے ہیں ۔ کہیں والدین نے تو اپنے بچوں............

اور پھِر گلی محلے میں اپنے دوستوں سے ساتھ کھیلنے نکل جاتے ہیں ، یہی کچھ معصوم طالب علم فرخ کے ساتھ ہو ا وہ اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنے گیا تو پھِر واپس نہ آیا ، والدین فکر مند ہوئے ، والد نے اِدھر اُدھر بھاگنا شروع کر دیا ، لوگوں سے پوُچھنا شروع کر دیا ۔ معصوم فرخ کے دوست کاشف، واجد ،شاہ رُخ بھی فرخ کی تلاشی میں والد کی مدد کرنے لگے ۔ لیکن معصوم فرخ کا کچھ پتہ نہ چلا ، فرخ کے دوست اور تمام پڑوسی زاہد انصاری صاحب کو تسلی دینے لگے۔ اتنے میں ایک پڑوسی بول پڑا کے فرخ کو میں نے کاشف کے ساتھ موٹر سائیکل پر جاتے دیکھا تھا ، کاشف..................................

Read moreहैलो फ्रेंड्स, मैं एक अपनी सेक्स स्टोरी लिख रही हूँ.

Antarvasna, hindi sex story: मेरी शादी को 5 वर्ष हो चुके हैं लेकिन मैं अपनी पत्नी मधु को बिल्कुल भी समय नहीं दे पाया मेरी पत्नी मधु को हमेशा मुझसे यही शिकायत रहती लेकिन घर की सारी जिम्मेदारियां मेरे ऊपर ही हैं इसलिए मैं उसे समय नहीं दे पाता। मेरी बहन नंदिनी की भी अभी शादी…

Antarvasna, kamukta: मैं अपने काम पर जा रहा था उस दिन मैंने देखा कि मेरी बहन किसी लड़के के साथ बात कर रही है मेरी बहन का नाम सुचित्रा है। वह किसी लड़के के साथ बात कर रही थी लेकिन वह आपस में इतना हंस कर बात कर रहे थे कि मुझे उन पर शक होने…

میں رہائش پذیر تھیں ۔ برس ہار برس سے ایک ہی جگہ رہنے سے پڑوسی ، رشتے داروں جیسے لگنے لگتے ہیں۔اِس لئے سب ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں شریک رہتے۔ چار سال قبل ان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا ، جس نے اہلِ محلہ کے دل دہلا دئیے ۔ ہفتے کا دن تھا ، پھوپھو کا تین سالہ پوتا عدنان اچانک لاپتہ ہو گیا۔و ہ بہت پیار ا اور ذہین بچہ تھا ، اپنے باپ سے بہت پیار کرتا تھا، جب اُس کے والد کا دفتر سے آنے کا وقت ہو تا تو وہ دروازے کی چوکھٹ پر جا کر کھڑا ہو جا تا ، کبھی بے چین ہو کر گلی کے نُکڑ تک چلا جا تا ، پورا محلہ اُس نٹ کھٹ بچے سے واقف تھا.....................بلا شُبہ موبائل فون جدید ٹیکنالوجی کا ایک شاہکار ہے، لیکن اس کا غلط استعمال انسانی زندگی کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے۔ ایک ایسا ہی واقعہ گوجرانوالہ میں پیش آیا ، جس کی روداد کچھ یو ہے کہ بارہ سالہ بچہ عظیم اپنا اور گھر والوں کا پیٹ پالنے کے لئے کمبل ، کھیس بنانے کے ایک چھوٹے سے کارخانہ میں کام کرتا تھا، مگر بری صحبت اور موبائل پر فحش فلمیں دیکھنے سے اس کا ذہین شیطانی کاموں کی طرف مائل ہو گیا اور پھر کیا تھا وہ اتنی چھوٹی سی عمر میں تین سالہ بچی کا قاتل بن بیٹھا ۔۔جس مقام پر اب منگلہ ڈیم ہے وہاں پر میر پور کا پرانا شہر آباد تھا۔ جنگ کے دوران اس شہر کا زیادہ تر حصہ ملبے کا ڈھیر بنا ہوا تھا ۔ایک روز میں( قدرت اللہ شہا ب) ایک مقامی افسر کو اپنی جیپ میں بٹھائے اُس ملبے کے گرد گھوم رہاتھا کہ راستے میں ایک مفلوک الحال بوڑھا اور اُس کی بیوی ایک گدھے کو ہانکتے ہوئے لے کروہ پچیس دسمبر 1971کی سرد رات تھی جب شیخ ربانی اپنے اکتیس ساتھیوں کے ہمراہ بنگلہ دیش کے ضلع دیناج پور کی بستی پاروتی پور کے ایک قید خانے میں اپنی موت کا منتظر تھا،اس کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ پاکستان سے محبت کرتا تھااور اسی جرم میں اسے آج سزائے موت نہیں دی جانی تھی بلکہ قتل کیا جانے والا تھا، سزائے موت کے لئے عدالت لگتی ہے فرد جرم عائد کی جاتی ہے، جرم ثابت کرنے کے لئے ثبوت پیش ہوتے ہیں ،ملزم کو صفائی کا لوڈشیڈنگ کے عذاب سے کون بچاہے، یہ ڈھائی سال پہلے کا واقعہ ہے۔ اس زمانے میں توہمارے محلے میں بجلی ساری ساری رات نہیں آتی تھی ۔ مئی جون کے مہینے میں لوگ رات بھر بے چینی سے سوتے جاگتے کیفیت میں وقت گزارتے تھے۔ مچھروں کی یلغار ، چھوٹے بچوں کی چیخ وپُکار سونے والوں کو وقفے وقفے سے جگا کر ادھر ادھر ٹہلنے پر مجبور کر دیتی تھی........۔کیا آپ روحوں ،بھوتوں،اوربزرگوں کی قبروں پر یقین رکھتے ہیں ،نہیں نا،میں بھی نہیں رکھتا ،کیوں کہ انسان اُس وقت چیزوں پر یقین رکھتا ہے جب کسی چیزکو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتا ،سُنتا یا محسوس کرتا ہے ،اور جب تک ایسا نہ ہووہ ایسی چیزوں کو نہیں مانتا اور اُنھیں فضول کہہ کر رَد کر دیتا ہے۔لیکن اگر آپ ذرا سا بھی حساس ہیں اور اپنے ارد گرد کی چیزوں پرغور کریں تو آپ کو محسوس ہو گا کہ ہر چیز اپنے آپ میں معجزہ ہے ۔محتصراََ یہ کہ آج جو کہانی میں آپ کوُ سنانے جا رہا ہوں وہ بھی میرے اور میرے دوست کے محسوس کرنے کی تھی..........................میں کون ہوں اور یہ کہانی کیوں لکھ رہا ہوں،میرا نام عمیر ہے اوراپنی یہ شرمناک کہانی اس لئے لکھ رہا ہوں کیوں کہ یہ کہانی آپ کی بھی ہو سکتی ہے ۔کبھی میں بھی آپ کی طرح تھا ،زندگی کی ہر خوشی میرے ساتھ تھی، گورنمنٹ کے ایک اعلیٰ عہدہ پر فائز تھا پیسے کی ریل پیل تھی اور اب بھی ہے ،دو چھوٹے چھوٹے بچے تھے ایک خوبصورت بیوی جو کسی بھی لڑکے کا خواب ہوتی ہے دراز قد،سُرخ و سفید چہرہ جیسے چاند، ایک ہسپتال میں ہرٹ سپیشلسٹ۔........................................۔مزید پڑھیں یہ پچھلے رمضان کی بات ہے جب میں نے پہلی مرتبہ رمضان میں اعتکاف بیٹھنے کا فیصلہ کیا ۔ گھر والے سارے خوش تھے کہ میں پہلی مرتبہ اعتکاف بیٹھ رہا ہوں لیکن عین وقت پر ہمارے قریبی مسجد کی سب جگہ پُر ہو گئی اور میرے لئے جگہ باقی نہ رہی مسجد کے امام صاحب سے میں اور میرے ابو نے جگہ نکالنے کی سفارش کی لیکن جگہ تو پہلے سےہی کم تھی ابھی اور زیادہ جگہ باوجود کوشیش کے ہمیں نہ مِل سکی ۔۔۔۔Yeh aik chota sa waqiya jo kuch din pehlay meray saath pesh aaya hum sab ki aankhain khol denay kay liay kaafi hay specially who log jo mehnat say parhtay or merit per believe kartey hain.

Meray liay her suni sunaai baat ko aagay bayaan karna bohat mushkil hota hay Kioonkay yeh waqiya meray saath pesh aaya is liay main aa......................... Janaab yeh kahani jo main aap logon kay liay likh raha hoon, ajeeb zaroor hay laiken mazedaar bhi hay.

Xxx kahanian-32Xxx kahanian-22Xxx kahanian-82

मैं आपके लिए पड़ोसन भाभी की चूत की एक कहानी लेकर आया हूं. एक दिन मैं अपने दोस्त के घर गया तो उसकी चाची से नजर मिली.

One thought on “Xxx kahanian”